پیر‬‮   19   ‬‮نومبر‬‮   2018

منی لانڈرنگ، متحدہ اور پی ایس پی رہنماﺅں کا گھیرا تنگ

منی لانڈرنگ، متحدہ اور پی ایس پی رہنماﺅں کا گھیرا تنگ
ایف آئی اے نے ثبوت جمع، نوٹس بھی بھجوا دیا، جلد گرفتاریاں متوقع
گرفتاری سے بچنے کےلیے رہنما سرگرم، حکومت مخالف محاذآرائی بھی گریز
کراچی (رپورٹ:مختار احمد) پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کی قیادت کے بعد متحدہ اور پی ایس پی رہنماﺅں کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو نے لگا ہے اور آئندہ چند روز میں متعدد رہنماﺅں کی گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے آصف زرداری سمیت پی پی اور ن لیگ کے بعض اہم رہنماﺅں کی گرفتاری کےلیے ایکشن پلان تیار کیے جانے کے بعد قتل و غارت گری، لوٹ مار و دیگر مقدمات کا سامنا کرنےوالے متحدہ کے وہ 60 رہنما جو ماضی میں الطاف حسین کے قریبی ساتھی رہے اور انہوں نے 22 اگست کو الطاف حسین کی ملک دشمنی تقریر کے بعد پارٹی میں رہے یا دیگر جماعتوں میں شامل ہو چکے ان کے گرد بھی ملکی اداروں نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ روز ایف آئی اے نے متحدہ رہنماﺅں کےخلاف منی لانڈرنگ سے متعلق ریفرنس بھجوا کر طلب بھی کر لیا ہے۔ ریفرنس میں کنوینر اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفا قی وزیر قانون فروغ نسیم، نسرین جلیل ،کشور زہرہ، فیصل سبزواری جبکہ پاک سر زمین پارٹی کے رہنما آصف حسنین، سلمان بلوچ ،شمس جعفری اور ایس اے قادری کو 15 نو مبر کو دستاویزی ثبوت کے ساتھ طلب کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ارب کی پرچیوں پر جعلی نام لکھ کر رقومات خد مت خلق فاﺅنڈیشن میں جمع کرائی ہیں اور یہ رقم غیر قانونی سرگر میوں کےلے استعمال کی گئی۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ان گرفتاریوں کی خبر پیپلز پارٹی، ن لیگ، متحدہ پاکستان، پاک سر زمین پارٹی کی قیادت و دیگر رہنماﺅں کو بھی ہو چکی ہے جس کے تحت انہوں نے گرفتاری سے بچنے کےلیے کوششیں تیز کر دی ہیں اور حکومت کیخلاف کسی بھی محاذآرائی سے گریز کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ روزنامہ اوصاف نے چند روز قبل اپنی ایک خبر میں ماضی میں بانی متحدہ کے ساتھ سیاست کرنے والے رہنماﺅں کے گرد گھیرا تنگ کیے جانے کی خبر شائع کی تھی۔
متحدہ گھیرا تنگ

© Copyright 2018. All right Reserved