جمعہ‬‮   14   دسمبر‬‮   2018

معافی نامہ مسترد، کیا حاکم وقت رعایا کیساتھ ایسا سلوک کر تا ہے؟ کیوں نہ اعظم سواتی کو مثال بنائیں، چیف جسٹس

بھینسوں کیوجہ سے کیا حاکم خواتین کو گرفتار کرواتاہے،عدالت62ون کے تحت اعظم سواتی کا خود ٹرائل کریگی
اومنی گروپ کی دھمکیوں کاآڈیو ریکارڈموجود ہے اسلئے مجیدفیملی سے جیل میں موبائل فون چھینے گئے،جسٹس ثاقب

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں وفاقی وزیر اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کردیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عظمی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا خود ٹرائل کرے گی ، شواہد ریکارڈ کرنا پڑے تو ہم خود کر لیں گے ،اعظم سواتی حاکم وقت ہیں اور کیا حاکم وقت رعایا کے ساتھ ایسا سلوک کر تا ہے ، بھینسوں کی وجہ سے کیا حاکم خواتین کو گرفتار کرواتا ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اعظم سواتی کا جواب پڑھ لیا ہے ، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عدالت خود ٹرائل کرے گی ، اعظم سواتی حاکم وقت ہیں ، کیا حاکم وقت رعایا کے ساتھ ایسا سلوک کر تا ہے ، کیوں نہ اعظم سواتی کو ملک کے لیے مثال بنائیں، بھینسوں کی وجہ سے کیا حاکم خواتین کو گرفتار کرواتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اعظم سواتی پر الزام عائد کیا گیا ۔ صدر سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ اعظم سواتی میرے ساتھ کام کررہے ہیں جرم ہوا ہے اس پر اتنی بڑی سزا نہ دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے آئی جی نے آتے ہی سرنگوں کردیا ہے ارب پتی آدمی سے ان سے مقابلہ کررہا ہے جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے ۔ ان کو سزا ملے گی تو شعور آئے گا۔ پی ٹی آئی نے اب تک اعظم سواتی کے خلاف کیا ایکشن لیا ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار نے عدالت نے اعظم سواتی کو معاف کرنے کی درخواست کردی۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے بتایا کہ نیب قوانین کے تحت معاملہ نہیں آتا چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ پھر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت لڑائی کریں۔ کیا اعظم سواتی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ان کے پیسے ہمیں ڈیم فنڈز کے لئے بھی نہیں چاہئیں۔ چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آئی جی نے ابھی تک کوئی کام نہیں کیا ، معاملہ حکومت کا ہے اس لیے آئی جی فرائض سرانجام نہیں دے رہے، کیا یہ آئی جی اسلام آباد کی کارگردگی ہے جس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لیے ایکشن نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آئی جی کو اعظم سواتی کا فون نہ اٹھانے پر تبدیل کیا گیا۔
دریں اثنا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اومنی گروپ کی دھمکیوں کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے اس لیے مجید فیملی سے جیل میں موبائل فون چھینے گئے ہیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں مبینہ جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت ہوئی ۔سماعت کے آغاز پر اومنی گروپ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بینکوں اور اومنی گروپ کو قرضوں کی ادائیگی پرسیٹلمنٹ معاہدے پیش کرنے ہیں جب کہ بینک کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ چینی کے 25 لاکھ تھیلے غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ فراڈ ہوا ہے تو سول اور فوجداری فورم سے رجوع کریں ، لگتا ہے بینک گارنٹی کے لیے ساری کارروائی کاغذی تھی ، بینک کے جو لوگ ملوث ہیں ان کے خلاف بھی پرچہ درج کرائیں ، قرضہ اور گارنٹی معاملے میں جو ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کرے گی اور عدالت کا یہی حکم ہے۔اومنی گروپ کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ گروپ کسی کا نادہندہ نہیں ہے ، اس کی شوگر ملیں بند ہونے سے کسان پریشان ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شوگر ملز کو عدالت ٹیک اوور کرے گی ، کسان کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔عدالت نے کہا کہ اومنی گروپ نے بینک کو رکھی گارنٹی میں بھی بدنیتی کی ، گروپ کے خلاف فوجداری کارروائی کا بینک خواہش مند ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پرچہ درج ہو جس وقت سمجھوتہ ہونا ہو گا ہو جائے گا ، اومنی گروپ صرف وقت حاصل کرنا چاہتا ہے، سمجھوتہ کرنا ہے تو 5 ارب روپے بینک کو ادا کر دیں۔اس موقع پر اومنی گروپ کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت تھوڑا وقت دے دے ، مجھے موکل سے ہدایات لینا ہیں ،عبدالغنی مجید سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنی ہے ۔عدالت نے عبد الغنی مجید اور حسین لوائی کے وکلاء کو ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اومنی گروپ کے وکلاء اپنے موکلان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں ،موکلان ملاقات کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔اومنی گروپ کے وکیل نے عدالت سے کیس کل تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل تک نہیں آج رات تک بیٹھے ہیں، کینٹین کھلی ہے وہاں جائیں چائے پئیں ، آپ نے مقدمے میں کتنی فیس لی ، اگر بتا دوں تو لوگ حیران ہوجائیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اومنی گروپ کی دھمکیوں کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے ، مجید فیملی سے جیل میں موبائل فون اس لیے چھینے گئے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کراچی کی ملیر جیل کے دورے کے دوران اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور ان کے بیٹے اے جی مجید سے موبائل فون واپس لینے کا حکم دیا تھا جب کہ کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس بھی دیئے تھے کہ سندھ میں ان کی حکومت ہے لہٰذا ملزمان کو اسلام آباد منتقل کیا جائے۔ ایف آئی اے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں جب کہ تحقیقات میں تیزی کے بعد سے اب تک کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آچکے ہیں جن میں فالودے والے اور رکشے والے کے اکاؤنٹس سے بھی کروڑوں روپے نکلے ہیں۔منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور ان کے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو سپریم کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہیں۔اسی کیس میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور پیش ہوچکے ہیں۔
چیف جسٹس

© Copyright 2018. All right Reserved