جمعہ‬‮   14   دسمبر‬‮   2018

سانحہ ماڈل ٹا ؤن ، سپریم کورٹ کا نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم

طاہر القادری نے دھرنادیاعدالتوں میں نہیں آئے،جن لوگوں کے پاس آپ جاتے تھے وہ عدلیہ سے بڑے نہیں،دھرنا دیکر ہر کام کو مفلوج کردیا
دھرنے والوں نےپھٹی پرانی قمیضیں لٹکائیں کیایہ عدالت کی تکریم ہے؟ ججز کابھی راستہ روکاگیا،دیکھناہے جے آئی ٹی آزادتھی یانہیں؟
آپ نے مناسب قانونی حکام سے رجوع نہیں کیا،چیف جسٹس ،مقتولین کے کسی وارث کابیان ریکارڈ نہیں کیا گیا،جے آئی ٹی امید کاچراغ ہے،قادری

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹا ئو ن کی نئی جی آئی ٹی بنانے کے فیصلے پر عوامی تحریک کی درخواست نمٹاتے ہوئے نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا جب کہ دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ طاہر القادری نے دھرنا دیا لیکن عدالتوں میں نہیں آئے،طاہر القادری جن لوگوں کے پاس آپ جاتے تھے وہ عدلیہ سے بڑے نہیں، عدالت سمیت ہر کام کو دھرنا دیکر مفلوج کیا گیا ، دھرنے والوں نے عدالت پر پھٹی پرانی قمیضیں لٹکائیں ، کیا یہ عدالت کی تکریم ہے؟، ججز کا بھی راستہ روکا گیا، آپ نے مناسب قانونی حکام سے رجوع نہیں کیا، عدالت نے دیکھنا ہے جے آئی ٹی آزاد تھی یا نہیں اور آپ کا نقطہ ہے کہ تحقیقات شفاف نہیں ہوئیں۔بدھ کو سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن ، نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زخمیوں سے زیادہ بہتر گواہ کوئی نہیں ہو سکتا ، وکیل نواز شریف نے بتایا کہ زخمیوں کو نوٹسز جاری ہوئے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، طاہر القادری نے بتایا کہ ہمارے 8سے 10ہزار لوگ گرفتار کرلئے گئے ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ اس وقت ہوا جب آپ نے دھرنا دیا ، عدالت کے دروازے انصاف کیلئے کھلے تھے ، آپ نے دھرنا دے کر پورے ملک کو روک دیا ، آپ نے عدالت کا کام روک دیا ۔ چیف جسٹس نے طاہر القادری سے مکالمہ کیا کہ اب آپ ساڑھے چار سال بعد عدالت آئے ہیں، آپ ان لوگوں کے پاس جا رہے تھے جنہیں مضبوط سمجھتے ہیں، سب سے مضبوط ادارہ عدالت ہے آپ کے لوگوں نے عدالت کی دیوار پر پھٹی ہوئی قمیضیں لٹکائیں، آپ کے کارکنوں نے عدالتی تکریم میں کمی کی۔ طاہر القادری نے کہا کہ ایسا ہوا تو میں معذرت خواہ ہوں۔ چیف جسٹس نے طاہر القادری سے مکالمہ کیا کہ یہ بات بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آپ نے وکلاء کے ذریعے جے آئی ٹی کو بیانات ریکارڈ کروائے ، طاہر القادری نے بتایا کہ ہمارا الزام پنجاب حکومت پر تھا ، ان کو بیانات کیسے ریکارڈ کراتے ، ہمارے لوگ چھپتے پھرتے تھے بیان کیسے ریکارڈ کراتے؟ میرے گھر پر فائرنگ بھی ہوئی۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ کا بیان قلمبند ہوا ؟ طاہر القادری نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ نے جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ نہیں کرایا ، رانا ثناء اللہ نے باقر نجفی کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا، رانا ثناء اللہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ بیریئر کا معاملہ نہیں تھا، بیریئر ہٹانے کیلئے ایل ڈی اے نے کوئی نوٹس نہیں بھیجا ، وہ ہمیں صرف سبق سکھانا چاہتے تھے، وہ سبق سکھانا چاہتے تھے تا کہ کوئی اصلاحات کی بات نہ کرے ، دہشت گردی کے بارے میں فتویٰ دینے کے بعد گھر کے باہر بیریئر لگایا ، کینیڈا میں بھی لوگ میرے گھر گھس آئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئیں؟ توقیر شاہ کا بیان قلمبند کرنے کے بعد اسے سفیر لگا دیا گیا، نوٹس لے کر توقیر شاہ کو واپس بلایا تھا۔ طاہر القادری نے بتایا کہ مقتولین کے کسی وارث کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے طاہر القادری سے مکالمہ کیا کہ آپ کے بقول یہ سازش تھی؟ آپ کے مطابق سازش میں شریک لوگوں کے بیان ریکارڈ نہیں کئے؟ طاہر القادری نے بتایا کہ ایس ایچ او نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ابتدائی ایف آئی آر انہوں نے نہیں لکھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے قانون کے مطابق لارجر بینج تشکیل دیا جا سکتا ہے؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کی گفتگو بہت مسحور کن ہوتی ہے ، لوگ آپ کو ساری ساری رات سنتے ہیں، ہم بھی سننا چاہیں گے لیکن وقت محدود ہے، طاہر القادری نے بتایا کہ خان بیگ کو ہٹا کر مشتاق سکھیرا کو آئی جی لگایا گیا ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ باتیں تو آپ جے آئی ٹی کو بتائیں گے، پنجاب حکومت نے نئی جے آئی ٹی بنانے کی حمایت کر دی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ نئی جے آئی ٹی پر کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بس تو پھر کیا ہے ، جے آئی ٹی تشکیل دیں۔ طاہر القادری نے بتایا کہ پراسیکیوشن اور پولیس اس وقت حکومت کے ہاتھ میں تھی ، حکومت بدلی تو ہمیں کچھ امیدیں پیدا ہوئیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حکومت نے جے آئی ٹی بنا دی تھی اس نے رپورٹ بھی دی، عوامی شکایت پر جے آئی ٹی بنائی گئی ، جے آئی ٹی بنانے کا اختیار ریاست کے پاس ہے، آپ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں؟سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت نئی جے آئی ٹی بنانے پر رضا مند ہے ، سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون پر نئی جے آئی ٹی بنانے سے متعلق کیس نمٹا دیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عوامی شکایت پر پہلے گواہ طلب کئے جاتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی رضا مندی کے بعد سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹا ئو ن از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا۔
دریں اثنا عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون کا فیصلہ دے کرمظلوموں کے چہروں پر خوشیاں لوٹا دی ہیں ، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کا دوبارہ قیام کر کے ہمارے لئے امید کا چراغ جلا دیا ہے، ثابت ہو گیا آج بھی انصاف کا بول بالا ہے۔طاہر القادری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے انصاف کا بول بالا کر دیا ، سپریم کورٹ نے پانچ رکنی لارجر بینج نے سانحہ ماڈل ٹائون کیس کی سماعت کی ، سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوموں کے چہروں پر سپریم کورٹ نے خوشیاں لوٹادی ہیں ، سپریم کورٹ نے دوبارہ جے آئی ٹی کا قیام کر کے ہمارے لئے امید کا چراغ جلا دیا ہے ، سپریم کورٹ نے پیغام دیا ہے کہ ابھی پاکستان میں عدل و انصاف موجود ہے ، سپریم کورٹ کا دروازہ مسکینوں ، یتیموں ، انصاف کیلئے کھلا ہے ، میں پانچوں لارجر بینچ کے ججز کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سانحہ ماڈل ٹائون کیس بڑی دلچسپی اور محبت کے ساتھ سنا گیا ،میری گفتگو کو بڑے اطمینان کے ساتھ سنا گیا ، گورنمنٹ پنجاب نے جے آئی ٹی کی یقین دہانی کرائی ہے، یہ فیصلہ عدلیہ کا ہے ہم جے آئی ٹی بنانے پر حکومت کے شکرگزار ہیں۔
ماڈل ٹاؤن ،جے آئی ٹی

© Copyright 2018. All right Reserved