جمعہ‬‮   14   دسمبر‬‮   2018

گلگت کی جغرافیائی حیثیت کو کشمیر کے ساتھ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ،راجہ عبدالقیوم

جب ہم حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات کی وکالت لازمی ہے
گلگت کی جغرافیائی حیثیت کو کشمیر کے ساتھ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ،راجہ عبدالقیوم
جب ہم حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات کی وکالت لازمی ہے
مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)آزادجموںوکشمیر کے وزیر مذہبی امور راجہ عبدالقیوم خان نے کہا ہے کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات کی وکالت لازمی ہے اقوام متحدہ کی قرارداداور کشمیرپر آئین پاکستان کی واضح پوزیشن کے تابع سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل ہونا چاہیے عین انصاف یہ ہے عوامی خواہشات کا احترام کیا جائے عمران خان فاروق حیدر نظریاتی جماعتی سطح پر دوالگ الگ فکر ہیں مگر قومی ملی ریاستی مفاد میں دونوں کی باہم عوامی فلاح وبہود کا مقدمہ رکھا ،ذمہ داری ہے فاروق حیدر حکومت کو عمران خان حکومت سے تعاون کرنا ہوگا۔اور کررہی ہے سیاست اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے قومی مفاد کے فیصلوں مین دانشمندی کا فریضہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گلگت کی جغرافیائی تاریخی حیثیت کو کشمیر کے ساتھ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا گلگت جغرافیائی طور پر الگ یونٹ ہے یہ حقیقت ہے کہ انگریز نے گلگت کو لیز پر لیا تھا جب برصغیر کی آزادی کا فیصلہ ہوا تو انگریز نے واپس کیا مہاراجہ نے گتسار سنگھ کو گورنر مقر کیا گلگت والوں نے اپنے زور بازار پر اپنے سے بہت بڑی فوج کو شکست دیکر آزادی حاصل کی راجہ عبدالقیوم خان نے کہا کہ کشمیرکا تنازعہ حل نہ کیا گیا تو پاکستان بھارت ایٹمی قوتیں ہی دنیا کے ممالک ایٹمی قوت ہی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں ایسے میں اقوام متحدہ کو انصاف پر عملدرآمد کرانا ہوگا وزنہ اسکا حشر نشر ہوجائے گا راجہ قیوم نے کہا کہ تحریک انصاف کا حالیہ سلسلہ اسکی ضرورت ہے اسکا مسلم لیگ ن کو نقصان نہیں ہوگا مسلم لیگ ن پاکستان آزادکشمیر میں مضبوط قیادت کی حامل جمات ہے جو عوام میں مقبول ہے۔
راجہ قیوم

© Copyright 2018. All right Reserved