جمعہ‬‮   14   دسمبر‬‮   2018

قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں گے،عمران خان

اس سے پہلے کسی نے نہیں سوچاتھا کہ ایک وزیراعظم بھی قانون کے نیچے آئیگا،جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کاسوچتی تھیں کہ اگلاالیکشن کیسے جیتیں ،
نیک نیتی سے چندسال میں خوابوں کی تعبیر پالیں گے،چیف جسٹس،بڑھتی آبادی کی وجہ علم کی کمی ہے،مولاناطارق جمیل،کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سب کو قانون کے دائرے میں لانے کا کام سپریم کورٹ نے شروع کیا اور طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانے کا آغاز پاناما کیس سے ہوا۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام 'ملک میں بڑھتی آبادی پر توجہ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی حکمرانی معاشروں کی ترقی کا راز ہے ، ہم نے قانون میں تبدیلی کے لیے 6 نئی تجاویز تیار کی ہیں ، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں میگنا کارٹا بادشاہ کو قانون کے نیچے لانا چاہتا تھا، بادشاہ کو قانون کے نیچے لانےکی سوچ سے برطانیہ میں قانون کی جدوجہد شروع ہوئی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا سب کو قانون کے دائرے میں لانے کا کام سپریم کورٹ نے شروع کیا اور طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانے کا آغاز پاناما کیس سے ہوا ، اس سے پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک وزیراعظم بھی قانون کے نیچے آئے گا۔وزیراعظم نے کہا جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں ، جب منگلا اور تربیلا ڈیم بنے تب پاکستان میں آگے کا سوچا جاتا تھا، عمران خان کا کہنا تھا کہ میرےکانوں نے یہ بھی سنا کہ اچھا ہوا بنگلہ دیش الگ ہوگیا وہ بوجھ تھا لیکن آج وہی بنگلہ دیش آگے کی طرف جارہا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی پر کنٹرول کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس نے بہت اچھی تجاویز پیش کیں ، عدلیہ کے پاس ان تجاویز پر عملدرآمد کا کوئی میکنزم نہیں، اگر کوئی اس پر عملدرآمد کراسکتا ہے تو وہ وزیراعظم ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو کردار ادا کرنا تھا اس کے لیے حصہ ڈال دیا اور ایگزیکٹو کی ذمہ داری ہے، کسی بھی ترقی یافتہ ملک یا معاشرے کے لیے تعلیم ، قانون کی بالادستی ، ایمانداری اور مخلص حکومت ضروری ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہر کام کرنے کے لیے ٹول ہوتے ہیں ، ہمارا کنٹریکٹ لاء 1872 کا قانون ہے، اس ٹول کو لے کر ہم 2018 میں اپلائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قانون سازی نہیں کرسکتے یہ کام پارلیمنٹ کا ہے اور پارلیمنٹ نے ہمیں ٹول دینے ہیں، اتنا وقت گزر چکا اور پرانے قوانین کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ نہیں کیا گیا، آپ ہمیں ٹولز دے دیں، آج کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کہا آئین کے بعد اگر کوئی سپریم ادارہ ہے تو وہ پارلیمنٹ ہے، امید ہے نیک نیتی سے چند سالوں میں خوابوں کی تعبیر پالیں گے۔
مذہبی اسکالرمولانا طارق جمیل نے کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی آبادی کا مسئلہ علم کی کمی کی وجہ سے ہے، دیہات میں کہا جاتا ہے 5 بیٹے ہوگئے تو مجھے کچھ کمانا نہیں پڑے گا، جتنے بچے پیدا ہوجائیں اتنے مزدور ہوں گے، یہ بچے کے پیدا کرنے کے لیے بہت بڑا ظلم ہے۔مولانا طارق جمیل نے کہاکہ معاشرتی دباؤ اور غربت بھی آبادی میں اضافے کی وجہ ہے، یہاں بچہ اس لیے پیدا کیا جاتا ہے میری ساس کیا کہے گی، لڑکا کہتا ہے کہ اولاد نہ ہوئی تو دوست کیا کہیں گے، یہ بچے کے لیے بہت بڑا ظلم ہے۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا مدینہ کی ریاست بنانے والا اللہ ہے حکمران کی نیت سے بڑا فرق پڑتا ہے، یہاں مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کرنے پر عمران خان کو سلام پیش کرتا ہوں اور وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنھوں نے مدینہ کی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کیا۔ مولانا طارق جمیل نے کہا حکمرانوں کی نیت کے اچھے یا برا ہونے سے ملک پر اثر پڑتاہے، جب بنیادیں بہتر ہوں گی تو ذیلی مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ فلاحی ریاست کی بنیاد عدل، امن اور مضبوط معیشت اور علم ان تینوں کی ماں ہے، فلاحی ریاست کے بنیادی اجزاء عدل، امن اور بہتر معیشت ہے، فلاحی ریاست کا پہلا تصور ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا، امن والی ریاست اس وقت بنتی ہے جب نظام عدل مضبوط ہو۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ معزز ججز سے ہی سنا کہ ہمارا قانون بہت کمزور ہے اور ایک کیس کا فیصلہ کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، اس میں بہتری کس طرح لائی جائے اس حوالے سے یہاں بیٹھے ججز بہتر بتا سکتے ہیں۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ پولیس مضبوط اور سیاسی لوگوں کے تسلط سے آزاد ہونی چاہیے، پولیس پر سیاسی لوگوں کا تسلط ہوگا تو انصاف نہیں ملے گا، تاجر سچ بولیں، صحیح تولیں، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی نہ کریں۔
عمران خان

© Copyright 2018. All right Reserved